لکھنؤ ، 27؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) اتر پردیش کی حکومت نے عید سے قبل ریاست میں مذہبی مقامات سے غیر قانونی لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ یہ اقدام سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کی مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کے حجم کو محدود کرنے کی ہدایت کے بعد آیا ہے اور حکومت کے بقول اس کے ذریعے آس پاس کے لوگوں کو پریشانی سے بچا نا ہے۔
ضلع حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ 30 اپریل تک اس سلسلے میں تعمیل رپورٹ جمع کرائیں۔ دریں اثناء غیر قانونی لاؤڈا سپیکر کے خلاف جاری مہم اور لاؤڈا سپیکر کے حجم کو جائز حد سے زیادہ بجانے کی جانچ میں خاطر خواہ کامیابی ملی ہے۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (امن و قانون) پرشانت کمار نے پیر کو کہا کہ اب تک 128 لاؤڈ اسپیکرز کو نیچے لایا جا چکا ہے اور تقریباً 17,000 لوگوں نے خود ہی اس طرح کے آلات کا حجم کم کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار کا کہنا ہے کہ ابھی تک اتر پردیش میں 125 مذہبی مقامات سے لاؤڈاسپیکر ہٹوائے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں تقریباً 17 ہزار مذہبی مقامات پر لاؤڈاسپیکر کی آواز کم کی گئی ہے۔ پرشانت کمار نے بتایا کہ حکومت نے تیز آواز میں لاؤڈاسپیکر بجانے والوں کی رپورٹ طلب کی ہے جسے 30 اپریل تک پیش کیا جانا ہے۔
فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے مظاہرے میں جھانسی ضلع کے بڈاگاؤں میں سب سے بڑے مندر اور مسجد نے اپنے اپنے احاطے سے لاؤڈ اسپیکر کو ہٹا دیا ہے۔ رام جانکی مندر اور سنی جامع مسجد نے لاؤڈ اسپیکر کو نیچے لانے کا فیصلہ کیا۔ دونوں ایک دوسرے سے چند میٹر کے فاصلے پر گاندھی چوک میں واقع ہے۔
ایس ڈی ایم سانیا چھابرا نے کہا کہ امن کمیٹی کی میٹنگ ہوئی اور دونوں پارٹیوں نے لاؤڈا سپیکر ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ یوپی حکومت کا دعویٰ ہے کہ مہم کسی خاص مذہب پر مرکوز نہیں ہے۔ متھرا کرشنا جنم استھان اور گورکھ ناتھ مندر جیسے اہم مندروں میں لاؤڈ اسپیکر کی آوازیں بھی کم کر دی گئی ہیں۔
مسلم طبقہ ماہِ رمضان میں خصوصی عبادات میں مشغول رہتا ہے اور آئندہ جمعہ اس ماہ کا آخری جمعہ ہوگا۔ اس کے پیش نظر اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر نے مسلم طبقہ کے کئی معزز شخصیتوں سے بات کی ہے۔ پرشانت کمار نے بتایا کہ الوداع جمعہ اور اس کے پہلے جو دیگر مذاہب کے بھی تہوار ہوئے ہیں، ان میں لاؤڈاسپیکر کی آواز کم کرنے کے لیے تقریباً 37 ہزار 344 مذہبی پیشواؤں سے بات کی گئی ہے۔ عید کی تیاریوں سے متعلق انھوں نے کہا کہ 75 ہزار عیدگاہ اور 20 ہزار مسجدوں میں نماز کی ادائیگی ہوگی۔ ان سبھی مقامات پر بات کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ لاؤڈاسپیکر کی آواز کو یا تو احاطہ تک ہی محدود رکھی جائے یا پھر لاؤڈاسپیکر ہٹا دیا جائے۔ حساس اضلاع میں 45 کمپنی پی اے سی، 7 کمپنی سی آر پی ایف اور مقامی پولیس فورس کو الرٹ کیا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ نے ہدایت دی تھی کہ بغیر اجازت کے کوئی بھی مذہبی جلوس نہ نکالا جائے اور لاؤڈ سپیکر کے استعمال سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔ عید اور اکشے ترتیا کے ساتھ اگلے مہینے میں ایک ہی دن پڑنے کا امکان ہے اور آنے والے دنوں میں کئی دوسرے تہواروں کی قطار میں آدتیہ ناتھ نے کہا کہ پولیس کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔